Ticker

opportunity Alert: If you have passion to write Media related stuff then Media Framing is right place for you!........send your Articles and get your story featured in our blog...... Best Article shall be entitled with story of the week!

Wednesday, 16 May 2018

Khan to Lead Naya Pakistan



The Election Commission of Pakistan (ECP) has released results of all 270 National Assembly (NA) seats that were polled on July 25 across the country.As many as 12,570 candidates contested for a total of 849 seats of national and provincial assemblies in the country's 11th General Election.According to the ECP results, the Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) leads the NA with 116 seats. Second  is the Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) with 64 seats and Pakistan Peoples Party (PPP) with 43 seats.

Pakistan Tehreek-e-Insaf leader Naeem-ul-Haq said on Saturday that party chairman Imran Khan will take oath as the prime minister before August 14.

Voting on election day itself seemed to go smoothly. Polling began at 8AM across the country's 85,307 polling stations and continued until 6PM.

Citizens turned out to vote across the country despite a terrorist attack in Quetta that killed more than 30 people. Women turned out to vote in some constituencies where female voter turnout had been zero in 2013. Overall turnout was recorded at 52 percent, compared to a high of 55 percent in 2013.

But soon after polls closed and counting began, opposition parties—the PML-N and the Pakistan People’s Party (PPP), as well as smaller parties—started alleging rigging. 
Vote counts were coming in slowly or not at all, and a number of parties other than the PTI said there had been alarming irregularities, including polling agents from their parties being told to leave polling stations during counting. 
The six parties had rejected the results and MMA leader Fazal ur Rehman called for All parties conference.He demanded to reconduct the election. Bilawal Bhutto has already entailed resignation from Election Commissioner but on the other hand ,he announced governor of Sindh and determined to be strong opposition in the parliament.

As Imran's dream of Naya Pakistan has came true after 22 years,and there is high expectation associated with the new government.The ongoing rigging allegation top the chart.How Imran would solve this problem which he faced in 2013 Election is still a mystery.They have some huge challenges to tackle down as soon as possible.He claims to bring change yet to show how these change will occur in Pakistan.
 But the only question,making us to think was this a umpire "Selection”, as opposition  have called it, or does Khan brought a real Election? 

Child labor in Pakistan


Child labor in Pakistan? For many years, Pakistan’s reputation has been notorious as one of the worst child labor offenders. In recent years, child labor prevention efforts have been heightened. Beginning in 2017, a province in Pakistan passed a new law banning child labour
More than 12.5 million children are involved in child labor in Pakistan. According to Reuters, “Pakistan’s Labour Force Survey, 2014-15 showed that of those children aged between 10 and 14 years active in child labor, 61 percent were boys and 88 percent came from rural areas.”
many child workers are often abused where they work, suffering beatings or torture. Many children are sent to live with middle class and elite class families to perform as domestic servants. Jobs like these become particularly dangerous for children, as they are at the risk of physical and sexual abuse without real supervision
On Jan. 26, 2017, the province of Sindh made child labor illegal under The Sindh Prohibition of Employment of Children Bill, banning children under the age of 14 from working. The law also prohibits adolescents from working between the hours of 7 p.m. to 8 a.m. and for those adolescents who are working, they cannot work more than three hours a day.
 “In Sindh, 43.1 percent [of the] population is extremely poor due to lack of education, health facilities and poor living standards
Since the province of Sindh is beginning to tackle the issue of child labor in Pakistan, in the future, the rest of the Pakistani work force could follow its example and eliminate all labor misconducts.

رمضان ٹرانسمیشن

رمضان وہ مقدس مہینہ جس میں ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کے احترام میں ہی صحیح ایک اچھا اور صالح مسلمان بن سکے ۔ یہ مہینہ اﷲ کا بے شمار احسانات میں سے ایک احسان ہے، اس مہینے کی فضیلتوں اور برکتوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں ۔ ہر ایک چھوٹی سی نیکی کا اجر ہزار گناہ زیادہ یوں کہا جائے کہ اس مہینے میں برکتیں بٹ رہی ہیں جو جتنی سمیٹنا چاہے سمیٹ لے تو غلط نہیں ہوگا۔ 
رمضان دراصل تجرباتی مہینہ ہے ، یعنی ایسا مہینہ جہاں ہر مسلمان اﷲ کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کی پاسداری کرتا ہے تاکہ باقی کے دنوں میں اس پر عمل پیرا ہوسکے ۔یعنی روزے میں ہم اپنی بھوک پیاس کو برداشت کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں کے درد کو سمجھ سکیں جو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہیں ، جذبہ حب انسانی سے واقف ہوسکیں ۔ جھوٹ ، غیبت ، برے کاموں سے بچ سکیں کیونکہ روزے میں ہم ان تمام باتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ 
ہمارے ٹی وی چینلز پر رمضان کے بابرکت مہینے میں ایک ٹرینڈ کی ابتداء ہوئی بنام رمضان ٹرانسمیشن ۔ سوچ اچھی تھی اس مہینے میں عوام الناس کواس مہینے کی براکات سے آگاہ کرنا ان کو دینِ اسلام کی جانب راغب کرنا ۔ لیکن ٹی آر پی ڑیٹنگ کی اس دوڑ میں باقی سب پیچھے رہ گیا بچا صرف ایک تماشہ کے کس طرح لوگوں کو اپنے چینل کے گرد جمع کیا جائے ۔ اس کیلئے اسلامی تعلیمات کی جگہ کھیل ، تماشوں اور ناچ گانے جبکہ علمائے کرام کی جگہ مشہور کرکٹرز اور فلمی وٹی وی اداکار و اداکاراؤں نے لے لی۔ ایسے میں کون سا دین فروغ پا رہا تھا آنے والی نسل کی کیا تربیت ہورہی تھی یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ 
لیکن موجود ہ چیف جسٹس آپ پاکستان جناب صدیقی صاحب نے چند ایک فیصلے لئے ہیں جو قابلِ ستائش ہیں اور ہر ایک پاکستانی ان کا دل سے مشکور ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں رمضان ٹرانسمیشن میں ہونے والے بے ہودہ قسم کے تماشے کو شروع کرنے کا ذمہ دار عامر لیاقت کو ٹھرایا اور جس کے بعد دیگر تمام ٹی وی چینلز اسی ڈگر پر چل نکلے ۔ انہوں نے سختی سے اس بات پر پابند ی کا اعلان کیا ہے کہ اس طرح کا کوئی انعام گھر جیسا کوئی تماشہ یا سرکس نہیں لگے گا۔ ویسے اسے سرکس کہنا ان کا تلخ ضرور مگر بجا ہے ۔ اپنے ہی لوگوں کو نیشنل ٹی وی پر بلا کر ان کی توہین کرنا سرکس نہیں تو کیا ہے۔ میری نظر میں ایسے لوگوں پر تا حیات پابندی بھی لگ جائے تو کم ہے ۔ 
انہوں نے ایک اور اہم اعلان کیا جس کے مطابق ہر ٹی وی چینل پانچ وقت کی آذان نشر کریں گے ۔ انتہائی شرمناک بات ہے کہ یہ باتیں عدلیہ سے بصورتِ حکم جاری ہورہی ہیں۔ بحیثیت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری اور بحیثیت مسلمان یہ کام بہت پہلے خود ہی کر لینا چاہئیے تھا ۔ خیر خود احساس نہیں تو نہ صحیح                                           ڈنڈنے کے زور پر ہی صحیح ، رمضان کا احترام ہوگا                                    
دوسرا رمضان ٹرانسمیشن کے دوران جتنے بھی پروگرام ہوں گے اس میں مذہب سکھانے کو کوئی اداکار و اداکارائیں نہیں آئیں گی بلکہ پی ایچ ڈی اسکالرز ہوں ۔یہ تمام فیصلے خوش آئند ہیں لیکن بات وہیں ہے کہ رمضان میں اس پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے ۔ کیونکہ رمضان ٹرانسمیشن کی تیاری رمضان آنے سے پہلے سے شرو ع ہوجاتی ہے ، ۳۰ دن لگاتار ۲۴ گھنٹے ہر چینل پر کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے ۔ زیادہ تر پروگرام لائیو جارہے ہوتے ہیں اس لئے ساری تیاری پہلے سے ہورہی ہوتی ہے۔ اب کیا اس طرح رمضان سے کچھ دن پہلے آنے والے اس فیصلہ کا احترام کیا جائے گا اس کو مانا جائے گا۔ پی ایچ ڈی اسکالرز ہوں گے یا اس سال بھی وہی سب ہورہا ہوگا۔۔۔
یہ جاننے کیلئے وقت زیادہ نہیں بچا ہے جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ عدلیہ کس حد تک بااختیار ہے اپنے فیصلے منوانے میں ۔کیونکہ اس سے پہلے بھی سابقہ چیف جسٹس نے وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف جو کہ وزیرِ بجلی و پانی بھی رہ چکے ہیں ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا مگر نتیجہ کیا ہوا تھا سب ہی واقف ہیں ۔ انتظار کیجئے ایک نہ ایک دن مملکت خداداد پاکستان ترقی کی جانب ضرور بڑھے گا۔ 

رمضان اور حادثات

سوچنے والی بات ہے رمضان کا حاثات سے کیا تعلق بے پناہ برکتوں اور فضیلوں سے بھرہور یہ مہینہ اس میں ایسا زکر کیوں ۔ ۔۔ تو اپنے اردگر نظر دوڑائیے خود ہی سمجھ جائیں گے ۔ رمضان میں رکھے جانے والے روزے اس مہینے کی خاص اور سب سے اہم اور بنیادی عبادت میں سے ایک ، ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس ماہِ مبارک کے روزے رکھے ۔ لیکن اس کے ساتھ جو ایک سبق ہمیں سکھایا جاتا ہے صبر کا وہ کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ سڑکوں کی حالت رمضان میں قابلِ توجہ ہوتی ہے ۔ یہ چیز اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب صبر کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے یعنی افطار کے وقت جہاں اتنا وقت صبر کیا ہے وہاں تھوڑا اور صحیح ، لیکن سوچ اس کے برعکس ہوتی ہے اتنا صبر کر لیا اب اور نہیں ۔ ۔ 
سب کو گھر جانے کی جلدی ہوتی ہے ۔ ٹریفک کا ایک اژدھام ہوتا ہے ۔ جو سفر آدھے گھنٹے کا ہو وہ اس جلدی میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے اور کبھی کبھی اس سے بھی تجاوز کر جاتا ہے ۔ پہلے میں نکل جاؤں کی جستجو میں ہر گاڑی آڑھی تر چھی کھڑی ہوجاتی ہے ۔ پھر ہارنز کا بے ہنگم سماعتوں کو منجمد کرتا شور ہوتا ہے اور بے تحاشہ دھواں ۔ پھر ایسے میں جس کو جہاں سے جگہ ملی نکلنے کی کوشش ، سامنے کون آرہا ہے ۔ غلط سمت میں گاڑی جارہی ہے۔ رفتار حد سے تجاوز کر رہی ہے ۔ بائیک سوار تو اس بات کی پرواہ بھی نہیں کرتے کے وہ تنہا نہیں ان کے ہمراہ خواتین ہیں جو ان کے ساتھ بیٹھی ہیں ۔ 
اسی افراتفری کا نتیجہ حادثات کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ جس کے بعض اوقات کافی سنگین نتائج بھی سامنے آتے ہیں ۔ حادثہ زیادہ بڑا بھی ہوسکتا تھا۔ جو نکل رہے ہیں جلدی میں وہ اپنے ساتھ دوسروں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ناصرف وہ دوسرے جو ان کے اپنے ہیں اورا س وقت ان کے ہمراہ ان کے شریکِ سفر ہیں بلکہ وہ دوسرے جو ان کے آس پاس سفر کرتے اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں ۔ 
افطار کے وقت ایک بڑی تعداد میں بہت سی شاہراہوں پر سٹی وارڈن کے اہلکار نظر آتے ہیں جو دھوپ ، گرمی اور روزے کی حالت میں لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کی خاطر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ کیا ہم ایسی بد تہذیب قوم ہیں جو ایک دوسرے کا خیال نہیں کرسکتے ، ایک ٹریفک کانسٹیبل ہمارے لئے کافی نہیں کے وہ اشارہ کرے رکنا ہے تو سب رک جائیں ہاتھوں میں لاٹھیاں اور بندقیں تھامے سٹی وارڈن اور ٹریفک پولیس کے ڈھیروں کانسٹیبل ایک ہی شاہراہ پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ کیوں ۔۔ جس طرح دنیا بھر میں ہوتا ہے ایک ٹریفک سگنل ساری گاڑیوں کو زیبرہ کراسنگ سے پہلے روک دیتا ہے ۔ پھر انہیں چلنے کا حکم کرتا ہے تو وہ چل پڑتی ہیں۔ کبھی سوچا ہے ہم انسان ہیں یا گائیں بھینسیں جنہیں چلانے کیلئے پورا کا پوراقافلہ چاہئیے ۔ 
کیا ہم خود احتسابی نہیں کرسکتے ، ہمیں رمضان کا احترام نہیں ۔کیسا روزہ رکھا جس میں ایک دوسرے کا احساس کرنا بھی نہیں سیکھا ، یہ کیسا جبر ہے خود پر جس میں صبر کا مطلب ہی سمجھ نہیں پائے ۔ یقین جانئے روزے کا مطلب بھوکا پیاسہ رہنا نہیں ہے ۔جس طرح اﷲ تک ہماری قربانی کا گوشت اور کھال نہیں پہنچتے اسی طرح اﷲ کو ہمارے بھوکے پیاسے رہنے سے بھی کچھ نہیں مل رہا ، ہمیں ہمدردی کا مساوات کا بھائی چارے کا درس دینے والا یہ مہینہ اگر روزہ رکھ کر بھی آپ نے کچھ نہیں سیکھا تو آپ نے روزہ کے نام پر بس فاقہ کیا ہے ۔ جس کی شاید اس رب العزت کی نظر میں کوئی اہمیت نہ ہو۔ 
روزے کے اصل مفہوم کو سمجھتے ہوئے اپنے غصہ اور نفس پراپنی اجارہ داری قائم کریں ۔نہ صرف روزے کا حق ادا ہوجائے گا ۔بلکہ اس جہاں میں جنت کے راستے بھی کھل جائیں گے ۔ 

ہیٹ اسٹروک

کراچی پر قدرت کا اعتاب یا ہمارے حکمرانوں کی سازش ۔۔ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہمارے بھولے بھالے عوام کو اپنی باتوں کے جال میں الجھانا تو سیاستدانوں کا پرانا مشغلہ ہے ۔ پورے پاکستان میں کراچی کے علاوہ ہیٹ اسٹروک کا عذاب کہاں کہاں نازل ہوتا ہے ۔ نہیں کہیں نہیں سب جگہ اپنے موسم کے حساب سے گرمی سردی آتی اور جاتی ہے ۔ پھر کراچی کی آب و ہوا کو کیا ہواہے جویہاں آئے دن ہیٹ اسٹروک موت کا فرشہ بن کر نازل ہوجاتا ہے ۔ میں کسی سیاسی پارٹی کا حصہ ہوں نہ ہی میری یہ تحریر کسی سیاست کا حصہ ہے میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں باقی آپ اپنا فیصلہ لینے کیلئے آزاد ہیں ۔ 
۲۰۱۴ میں پہلی بار یہ عذاب اپنی پوری شدت سے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے گیا ۔ جہاں ۴ دن آٹھ سو لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ کراچی وہ شہر ہے جہاں ہر طرح طبقہ موجود ہے ۔جو کہ اس شہر کی خوبصورتی میں چا ر چاند لگا دیتا ہے ۔ لیکن شاید یہ موسم مذدور طبقے کو اس شہر میں رہتا نہیں دیکھ سکتا ۔ سڑکوں پر کام کرنے والے ، دیہاڑی مزدور، ٹھیلے والے غرض وہ تمام لوگ جن کا پیشہ انہیں براہِ راست دھوپ میں کام کرنے پر مجبور کرتا ہے ان کیلئے یہ موسم موت کا فرمان بن کر آیااور لے گیا اہنے ساتھناجانے کتنی معصوم جانوں کو ۔ کچھ دیر این جی اوز ، ٹی وی چینلز پر باتیں ہوئیں ۔ گلوبل وارمنگ کو موضوعِ گفتگو بنایا اورپھر بھول گئے ۔ کسی نے اس کے حقائق جاننے کی کوشش نہیں کی ۔ وجوہات کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ 
۲۰۱۴ میں ہونے والے حالات سوچ کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جب لاشیں رکھنے کی جگہ نہیں تھی اسپتالوں میں اورایکسپو سینٹر کراچی کو بطور سرد خانہ استعمال کیا گیا۔ کراچی والے جہاں اندرونی اور بیرونی سیاست سے لڑ رہے ہیں وہیں یہ موسم کی سختی بھی انہی کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے ۔ پانچ سال میں ایک پروجیکٹ ملتا ہے وفاق سے کراچی کو گرین لائن ، سب خوش ۔ ساری کراچی کھود کر رکھ دیا اتنے مہینے گزر جانے کے باودجود بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں ، البتہ جو گرین بیلٹ بنی ہوئی تھیں پہلے سے ان کو نہایت بے دردی سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ اس طرح کے پروجیکٹس پاس ہونے سے پہلے پروجیکٹ میں یہ بات شامل کی جاتی ہے کہ جو پودے وہ نکال رہے ہیں اتنے ہی لگائیں گے بھی مگر اس کا کیا ہوااس پروجیکٹ کی وجہ سے جتنے پودے نکالے گئے ان کا ایک فیصد بھی کہیں لگایا گیا ۔ نہیں ، پھر موسم کی تباہی کا ذمہ دار کون ۔
کونوکارپس کے پودے ۲۰۰۸ میں بناء جانچ کئے پورے کراچی میں بڑی تعداد میں لگائے گئے اس نے کراچی کے ایکو سسٹم کو بری طرح متاثر کیا ۔جگہ جگہ پائے جانے والے یہ پودے سستے ہوتے ہیں لیکن یہ ماحول کی آلودگی اپنے اند جذب نہیں کرتے ۔ ان کی جگہ برگد ، نیم ، گل مہر کے پودے کو لگانا چاہئیے جو ماحول دوست ہیں ۔ 
اسے حکمرانوں کی کم عقلی کہا جائے یا سازش ، بہرحال ہیٹ اسٹروک ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر بات ہونا ضروری ہے اور کوئی مستقل لاحہ عمل طے کیا جائے جس سے کراچی والوں کو اس عذاب سے نجات ملے ۔